104

الیکشن ہارنے کا کنگ

رواں برس 19 اپریل سے شروع ہونے والے انڈیا کے چھ ہفتے کے طویل عام انتخابات میں وہ تامل ناڈو کے ضلع دھرما پوری کے پارلیمانی نشست پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔
ٹائر مرمت کی دکان کے علاوہ پدماراجن ہومیو پیتھک علاج کرتے ہیں اور ایک مقامی میڈیا کے ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
انڈیا میں عوامی عہدے کے حصول کے لیے انتخابات میں 238 مرتبہ ناکام ہونے کے باوجود کے پدماراجن کو کوئی فکر ہی نہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 65 برس کے پدماراجن کی ٹائر مرمت کرنے کی دکان ہے۔ انہوں نے 1988 سے جنوبی ریاست تمل ناڈو میں اپنے آبائی شہر میٹور سے الیکشن میں حصہ لینا شروع کیا تھا۔
گزشتہ برسوں میں وہ وزیراعظم نریندر مودی، سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ اور کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی سے ہار چکے ہیں۔
ان کے لیے کامیابی حصہ لینے میں ہے اور جب ان کو شکست ہوتی ہے تو وہ بخوشی ہارتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ عام لوگ بھی الیکشن میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔
پدماراجن نے کہا کہ تمام امیدوار انتخابات میں جیت کے خواہاں ہوتے ہیں لیکن میں نہیں۔
وہ اپنے علاقے میں الیکشن کنگ کے نام سے مشہور ہیں۔ پدماراجن نے ملک بھر میں صدارتی سے لے کر مقامی انتخابات تک کے الیکشن میں حصہ لیا ہے۔
ان کا خیال ہے کہ کامیابی ثانوی چیز ہے۔ میرا مخالف امیدوار کون ہے؟ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ان کے مطابق وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے میں انتخابی نامزدگیوں کی فیس میں ہزاروں ڈالر خرچ کر چکے ہیں۔
انہوں نے سکیورٹی ڈپازٹ میں 25 ہزار روپے (300 ڈالر) جمعے کرائے ہیں اور وہ اس وقت واپس نہیں کیے جائیں گے جب تک وہ 16 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر پاتے۔
ان کی واحد کامیابی لِمکا بک آف ریکارڈز میں انڈیا کے سب سے ناکام امیدوار کے طور پر جگہ حاصل کرنا ہے، جس میں انڈینز کی جانب سے قائم کیے گئے ریکارڈز شامل کیے جاتے ہیں۔
پدماراجن کی بہترین کارکردگی 2011 میں تھی جب وہ میٹور میں اسمبلی انتخابات حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے چھ ہزار 273 ووٹ حاصل کیے جبکہ مقابل امیدوار نے 75 ہزار سے زیادہ ووٹ لیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے ایک ووٹ کی بھی امید نہیں تھی لیکن اس سے ظاہر ہوا کہ لوگ مجھے قبول کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں