246

فرانسس اسکاٹ کی برج گر جانے سے امریکہ کو کتنا نقصان ہوا؟

ریاستِ میری لینڈ کے چیمبر آف کامرس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘فرانسس اسکاٹ کی برج’ کا ٹوٹنا تجارتی سرگرمیوں اور سپلائی چین کو لازمی متاثر کرے گا۔
ریاست میری لینڈ اسٹیٹ آرکائیو کے مطابق بالٹی مور بندرگاہ سے سالانہ تین اعشاریہ تین ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے جب کہ 400 ملین ڈالر کا سالانہ ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔
بالٹی مور بندرگار کو کروز ٹرمینل کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ گورنر آفس کے مطابق گزشتہ برس چار لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افراد کروز کے ذریعے بندرگاہ آئے تھے جو 2012 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
دریائے پٹاپسکو پر واقع پل 1977 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا نام امریکہ کا قومی ترانہ لکھنے والے شاعر کے نام پر رکھا گیا تھا۔
امریکہ کی مصروف ترین بندرگاہ کی گزرگاہ پر واقع ‘فرانسس اسکاٹ کی برج’ کے منہدم ہونے کے بعد ابتدائی نقصان کا تخمینہ اور پل دوبارہ تعمیر کیے جانے کا معاملہ زیرِ بحث ہے۔
دریائے پٹاپسکو پر واقع یہ پل منگل کی صبح اس وقت منہدم ہوا تھا جب کنٹینرز سے لدا بحری جہاز پل کے ایک ستون سے ٹکرایا اور چند ہی سیکنڈ میں پل پانی میں غرق ہو گیا۔
اس واقعے کے بعد بالٹی مور پورٹ پر تجارتی سرگرمیاں معطل ہو گئیں ہیں جب کہ پل سے گزرنے والی گاڑیوں کو بھی متبادل راستوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر روز 34 ہزار گاڑیاں فرانسس اسکاٹ کی برج سے گزرتی تھیں۔
میری لینڈ کے گورنر ویس موری کے دفتر سے جاری ایک حالیہ بیان کے مطابق گزشتہ برس بالٹی مور بندرگاہ سے 52 ملین ٹن غیر ملکی کارگو کا گزر ہوا تھا جس کی مالیت تقریبا 80 ارب ڈالر تھی۔
واضح رہے کہ ریاست میری لینڈ کے چیساپیک بے میں بالٹی مور گہری ترین بندرگاہ ہے اور اس بندرگاہ کے ذریعے نہ صرف اندرونِ ملک ٹرکوں کی آمد و رفت ہوتی ہے بلکہ بیرونِ ملک سے درآمد شدہ چینی اور جپسم بھی لائی جاتی ہے۔
پل کے منہدم ہونے پر امریکہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پل کے منہدم ہونے سے سپلائی چین پر اثر پڑے گا۔
میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مال برداری کے راستے کو کب تک کلیئر کیا جائے گا اور مال بردار جہاز دوبارہ کب اسی طرح چل سکیں گے۔
یاد رہے کہ بالٹی مور بندرگاہ امریکہ کی نویں سب سے مصروف ترین بندرگاہ ہے جو غیر ملکی کارگو کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس بندرگاہ سے 15 ہزار سے زیادہ افراد کی ملازمت وابستہ ہے اور تقریبا ایک لاکھ 40 ہزار افراد وہ ہیں جن کا کسی نہ کسی طرح روزگار اس بندرگاہ سے جڑا ہے۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بھی کہا ہے کہ وہ بندرگارہ سے وابستہ لوگوں کی ملازمت کو تحفظ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور ملازمین کی مدد کی جائے گی۔
صدر بائیڈن نے وائٹ ہاوس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو پل کو دوبارہ تعمیر کرائیں۔ البتہ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پل کی تعمیر میں کچھ وقت لگے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں