54

وائٹ ہاوس کا سالانہ افطار ڈنر:واک آوٹ کا شکار

امریکہ کے صدر جو بائیڈن کی جانب سے مسلم کمیونٹی کے اعزاز میں دیے گئے سالانہ افطار اور عشایئے کے دوران بعض مسلم رہنماوں نے غزہ جنگ سے متعلق ان کی پالیسی پر مایوسی کا اظہار کیا۔
منگل کو افطار ڈنر سے قبل صدر بائیڈن نے وائٹ ہائوس میں مسلم کمیونٹی کے رہنماوں سے ملاقات کی۔
بعد ازاں ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں خاتونِ اول جل بائیڈن، نائب صدر کاملا ہیرس سمیت بائیڈن انتظامیہ میں شامل مسلم کمیونٹی کے اہلکار شریک ہوئے۔
ڈاکٹر طاہر احمد کا کہنا تھا کہ “اپنی کمیونٹی کے احترام میں اور ان تمام لوگوں کے لیے جو نقصان اٹھا رہے ہیں اور مارے گئے ہیں، میرا اس میٹنگ سے واک آئوٹ ضروری تھا۔”
طاہر احمد میٹنگ میں شرکت کرنے والے واحد فلسطینی امریکی کمیونٹی رہنما تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے ہمیں کوئی خاطر خواہ جوابات نہیں مل رہے تھے۔
صدر بائیڈن کی جانب سے دیا گیا یہ افطار ڈنر گزشتہ برس مئی میں اس عید ملن پارٹی سے بالکل مختلف تھا جس میں درجنوں حاضرین نے صدر بائیڈن کے حق میں نعرے بازی کی تھی۔
اس دوران صدر نے کہا تھا کہ “یہ آپ سب کا گھر ہے۔”
ایک امریکی مسلم ایڈوکسی گروپ ‘ایمگیج ایکشن’ نے بھی صدر بائیڈن کے دعوت نامے کے باوجود افطار ڈنر میں شرکت نہیں کی۔
فلسطینی نژاد امریکی مسلم ارکان کانگریس راشدہ طلیب اور الہان عمر بھی اس ایونٹ میں شریک تھے جو اب صدر بائیڈن کی غزہ پالیسی کی بڑی ناقد ہیں۔
امریکی صدر اور دیگر حکام اسرائیل پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ غزہ میں انسانی جانوں کے ضیاع کو کم کرے۔
گروپ کے مطابق افطار ڈنر کے دعوت نامے کو صدر بائیڈن کی اسرائیل کے لیے ‘غیر مشروط فوجی امداد’ کی وجہ سے رد کیا گیا۔
گروپ کا کہنا تھا کہ یہ غیر مشروط امداد غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ کا یہ موقف رہا ہے کہ سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں