58

چین امریکی انتخابات میں مداخلت سے باز رہے: صدر بائیڈن

ویب ڈیسک :امریکی حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے پیر کو رہنماں کی بات چیت کا جائزہ لیتے ہوئے ایک بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے چینی انتخابی مداخلت کے خلاف اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بائیڈن نے آخری مرتبہ گزشتہ برس نومبر میں امریکی ریاست کیلی فورنیا میں شی جن پنگ کے ساتھ اپنی ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا تھا۔
امریکی حکومت کے سینئر افسر نے کہا ہے کہ “مجھے نہیں لگتا کہ ہم چین کی بات کو ان کے کہنے پر تسلیم کرتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ کریں گے یا نہیں۔”
ان کے بقول یہ تصدیق کرنے کا معاملہ ہے۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ایک بار پھر چینی ہم منصب شی جن پنگ کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے۔
وائٹ ہاس نے دونوں رہنماں کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق کہا ہے کہ یہ امریکی کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد دونوں ملکوں میں غیر ارادی طور پر ہونے والے تنازعات کو روکنا ہے۔
بیجنگ نے بارہا کہا ہے کہ اسے امریکہ کے اندرونی معاملات میں مداخلت میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پینگیو نے وی او اے کو دیے گئے ایک بیان میں کہا کہ چین ‘عدم مداخلت کے اصول پر کاربند ہے’ اور بیجنگ کے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے دعوے ‘مکمل طور پر من گھڑت’ ہیں۔
خیال رہے کہ فروری میں جاری کردہ امریکی انٹیلی جینس کے ایک تجزیے نے چین کے اثرانداز ہونے کے بارے میں خبردار کیا تھا جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں آن لائن امریکی سماجی تقسیم کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بڑھتی ہوئی کوششوں کے بارے میں خبردار کیا گیا تھا۔
تھنک ٹینک ‘فانڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز’ سے وابسطہ ایک سینئر تجزیہ کار میکس لیزر نے اس ضمن میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اثر انداز ہونے والے اپنے ‘اسپام فلاج’ نامی آپریشن کی کارروائیوں کی مہمات میں امریکی سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی تقسیم کرنے والے مسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔
لیزر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ‘اسپام فلاج’ بائیڈن کو نشانہ بنانے کے لیے مخصوص مسائل سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ مثلا فاکس نیوز کے ایک مضمون کی پوسٹ جس میں فلسطینیوں کے حامی احتجاج کے بارے میں رپورٹ کیا گیا تھا، ‘اسپام فلاج’ اکانٹ نے اضافی کمنٹری کے ساتھ شیئر کی تھی کہ بائیڈن کی شکست پہلے سے ہی یقینی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں