15

بجلی کی عدم فراہمی لکھوں یا پانی کی کہانی ۔

عرفان مرتضی ایک سچے شاعر ہیں جنکی ایک نظم دیس کو تم پردیس کہو گے اور پردیس کو تم دیس کہو گے یہ ایک ایسی نظم ہے جو ہر پردیسی کے دلوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے اپنے ملک سے محبت ایک فطری عمل ہے یہ وجہ ہے کہ دیارغیر میں بسنے والے مختلف تقریبات کا اہتمام کر کے اور مادری زبان سے محبت کر کے اس فرض کو ادا کرتے ہیں پاکستان جانے کا خیال ہی اتنا حسین ہوتا ہے کہ تمام یار انملے ہوا دے غلے
اور تمام ماں جاوں کے ساتھ ماں کی دعائیں یاد آتی ہیں ایک طویل تھکا دینے والا سفر صرف ماں کی صورت دیکھتے فریش کر دیتا ہے لیکن چندگھنٹوں بعد ہی جمہوریت اور مارشل لاء کی خوبصورتی ایسی نمایاں ہونی شروع ہوتی ہیں کہ ہم دیس کا موازنہ پردیس سے کرنے لگتے ہیں ضروریات زندگی کی فراہمی ایک فلاحی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ایک اسلامی حکومت پر یہ فرائض کچھ زیادہ ہوتے ہیں لیکن ہمارے حکمران صرف جموریت اور مارشل لاء کے چکروں میں الجھا کر صرف زندہ و مردہ باد کے نعروں میں لگا رکھا ہے گزشتہ کئی سالوں سے لاہور گوجرانوالہ جی ٹی روڑ ہو یا بجلی یا پانی کا مسئلہ ۔۔شادی کا شب مورت یعنی شادی کا دن بھی سی این جی کی فراہمی سے مشروط ہو گیا ہے کیوں کے پٹرول کو افورڈ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اب تو بس دعا ہے ماں کو دیکھتے ہی جیسے جنت مل گئی بس اب دعا ہے کہ بجلی پانی مل جائے تو کسی کو منہ دیکھنانے والے بن جائے لیکن لاہور لہور اے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں