80

پاکستان میں پہلی بارذہنی رویوں کو پڑھنے والی تجربہ گاہ قائم

کراچی: پاکستان میں ٹیکنالوجی کی مدد سے انسانی رویوں کو سمجھ کر فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونیو الے عوامل پر تحقیق شروع کردی گئی۔ انسانی دماغ کو پڑھ کر رویوں میں تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجی سیاست، تعلیم، صحت اور تجارت کے شعبہ کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دے گی۔


پاکستان کے معروف نجی تعلیمی ادارے نے ملک میں پہلی نیورو لیبارٹری قائم کردی، جس سے انسانی رویوں کو سمجھ کر فیصلہ سازی کرنے میں مدد ملے گی۔
ملک کے معروف تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن آئی بی اے میں ملک کی پہلی نیورو مارکیٹنگ لیبارٹری قائم کردی ہے جہاں حساس اور جدید سینسرز پر مشتمل ڈیجیٹل آلات کے ذریعے انسان کے لاشعور پر کسی صوتی و بصری پیغام سے پڑنے والے فوری اثرات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
لیبارٹری میں دماغ کی لہروں کو پڑھنے والے ای ای جی سینسرز، آنکھ کی حرکت سے انسانی سوچ کو سمجھنے والے آئی ٹریکنگ سینسرز، انسانی جلد کے ذریعے کسی پیغام یا منظر کے انسانی دماغ پر پڑنے والے اثرات کو پڑھنے والے جی ایس آر سینسرز اور فیشل ایکشن کوڈنگ کے طریقوں کو ملاکر انسانی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے والے عوامل کا سائنسی بنیادوں پر کھوج لگایا جائے گا۔
ای ای جی سینسرز کسی منظر یا صوتی و بصری پیغام کے انسانی لاشعور پر پڑنے والے اثرات کو انسانی جلد کے ذریعے محسوس کرکے تجزیہ کرنے والے سسٹم کو ڈیٹاکی شکل میں مہیا کرے گا، آئی ٹریکنگ سینسرز زیر تحقیق انسان کی آنکھوں کی حرکت پتلیوں کے پھیلنے سکڑنے کے عمل کو ڈیٹا کی شکل میں تجزیہ کرنے والے سسٹم کو منتقل کریں گے جبکہ فیشل کوڈنگ کا طریقہ کسی پیغام یا منظر کے انسانی لاشعور پر پڑنیو الے اثرات کا چہرے کے عضلات سے اندازہ کرتا ہے۔
آئی بی اے اپنی تحقیق میں جدید ڈیجیٹل چشمہ (ویئر ایبل آئی ٹریکر) بھی استعمال کررہا ہے، جس کی مدد سے رویوں سے متعلق ریسرچ کو فطری ماحول میں انجام دینا ممکن ہوتا ہے۔
نیورو مارکیٹنگ لیب کی بنیاد رکھنے والے آئی بی اے کے پروفیسر ڈاکٹر واجد حسین رضوی نے ایکسپریس کوبتایا کہ دنیا بھر میں انسانی لاشعور پر صوتی و بصری پیغامات کے فوری اثرات کا مطالعہ جاری ہے، اس حوالے سے پاکستان بھی ان ملکوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جہاں انسانی رویوں کو سمجھنے کی ٹیکنالوجی پر تحقیق کی جارہی ہے اور یہ اعزاز آئی بی اے کے حصہ میں آیا ہے کہ آئی بی اے پاکستان کا واحد ادارہ ہے جہاں طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائیگی اور مارکیٹ کے لیے ریسرچ ہوگی۔
ڈاکٹر واجد حسین رضوی کے مطابق لیبارٹری میں ہونیوالی تحقیق سے کاروباری اداروں کو فائدہ ہوگا اور وہ اپنی تشہری مہم اور مواد کو اس طرح ترتیب دے سکیں گے کہ ان اداروں کے کاروباری مقاصد کا حصول آسان ہوسکے۔
نیورو مارکیٹنگ لیبارٹری میں کی جانے والی ریسرچ پاکستان میں سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، موبائل ایپلی کیشنز اور ویب سائٹ ڈیولپمنٹ کو بھی ایک نئی جہت سے روشناس کرانے کا ذریعہ بنے گی انسانی لاشعور پر کسی ویب سائٹ، ایپلی کیشن یا سافٹ ویئر کے مثبت یا منفی تاثر، اسے استعمال کرنے میں درپیش مشکلات، فرنٹ اینڈ کو جاذب اور دلکش بنانے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی پہلی نیورو سائنس لیبارٹری کے قیام سے انسانی رویوں کو سمجھنے والی ٹیکنالوجی کے شعبہ میں پاکستان ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں شامل ہوگیا ہے جس کا فروغ پاکستان میں انفرادی اور اجتماعی رویوں کو بہتر بنانے میں معاون ہوگا۔
ان کے مطابق اس تحقیق اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے انسانی رویوں کو سمجھنے سے پاکستانی معاشرے کے بہت سے سماجی مسائل بھی حل کرنے میں مدد ملے گی۔ اس تحقیق سے تدریسی مواد کو زیادہ موثر، صحت کی سہولتوں کو مریضوں کے لیے نفسیاتی لحاظ سے زیادہ موزوں، آلودگی اور کچرا پھیلانے والے عوامل کو سمجھ کر ان کے تدارک کے لیے زیادہ موثر حکمت عملی ترتیب دینا ممکن ہوگی۔
ڈاکٹر واجد حسین نے بتایا کہ یہ تحقیق اور ٹیکنالوجی پاکستان میں مارکیٹنگ کے شعبہ کو بین الاقوامی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کا ذریعہ بنے گی اور پاکستان میں کاروبار کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور کاروباری گروپس آئی بی اے کی اس تحقیق سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
ایک بڑے کاروباری ادارے نے اس تحقیق کے لیے گرانٹ بھی مہیا کی ہے جبکہ لیبارٹری کے قیام پر اٹھنے والے اخراجات خود آئی بی اے نے برداشت کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لیبارٹری میں ہونے والی تحقیق کو آئی بی اے کے نصاب میں شامل کیا جائے گا جس سے صنعتیں اور کاروباری ادارے بھی مستفید ہوسکیں گے جبکہ آئی بی اے کے ایم بی اے اور بی بی اے کے طلبہ کو اختیاری مضمون کے طور پر نیورو سائنس مارکیٹنگ کا مضمون پڑھایا جائے گا، جس کے بعد طلبہ عملی طور پر تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ بنیں گے اور آئی بی اے سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ پاکستان کے کاروباری شعبہ کو بین الاقوامی رجحانات سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ اپنے اداروں کے کاروباری اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرسکیں گے۔
نیورو سائنس لیبارٹی کے قیام سے ادارے کو پاکستان کے تعلیمی اداروں پر حاصل سبقت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اس لیبارٹری کے قیام سے آئی بی اے نے نجی شعبہ اور انڈسٹری کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جو سرمائے کی فراوانی کی وجہ سے اس طرز کی ٹیکنالوجی اور سلوشنز دنیا کے کسی بھی ملک سے حاصل کرسکتے ہیں تاہم اس کے لیے ڈیٹا سیٹ تشکیل دینے اور پاکستانی صارفین پر مقامی مواد کے اثرات کا جائزہ لینے کا بنیادی کام آئی بی اے کی لیبارٹری میں ہی ممکن ہوگا۔
نجی شعبہ اور انڈسٹری کے لیے آئی بی اے مستقبل میں ایک عمومی سلوشن یا سافٹ ویئر بنانے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ مخصوص شعبوں اور صنعتوں کے لیے ان کی ضروریات اور مصنوعات یا خدمات کی بنیاد پر سلوشنز تیار کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں