92

جراسک ورلڈ ڈومینین ‘ نے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زکا بزنس کیا

کراچی :پاکستان بھر میں بڑی تعداد میں بچوں اور بڑوں نے سنیماگھروں کا رخ کیا اور جمعے کے روز تقریباملک بھر کے سنیما گھروں میں اس فلم کا چرچہ تھا
باکس آفس کی مستند ویب سائٹ باکس آفس ڈیٹیل کے مطابق صرف پاکستان میں ‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ نے پہلے روز ایک کروڑ 82 لاکھ روپے کا بزنس کرکے سال کی دوسری بڑی اوپننگ کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
ہالی وڈ کی فرینچائز ‘جراسک ورلڈ’ کی تیسری اور مجموعی طور پر ‘جراسک سیریز’ کی چھٹی فلم ‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ نے ریلیز ہوتے ہی باکس آفس پر تہلکہ مچادیا ہے۔ صرف امریکہ میں ریلیز کے پہلے ہی دن ‘جراسک ورلڈ ڈومینین ‘ نے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زکا بزنس کیا ہے۔
باکس آفس کی مستند ویب سائٹ باکس آفس ڈیٹیل کے مطابق صرف پاکستان میں ‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ نے پہلے روز ایک کروڑ 82 لاکھ روپے کا بزنس کرکے سال کی دوسری بڑی اوپننگ کا ریکارڈ اپنے نام کرلیا۔
‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ نہ صرف ‘جراسک ورلڈ’ سیریز کی آخری فلم ہے بلکہ ‘جراسک ‘ فرینچائز کا اختتام بھی اسی فلم سے ہورہا ہے۔فلم کی کہانی ‘جراسک ورلڈ فالن کنگ ڈم’ کے چار سال بعد شروع ہوتی ہے جس میں اوون گریڈی (کرس پریٹ) اور کلیئر ڈیئرنگ (برائس ڈیلس ہاورڈ) دنیا کی نظروں سے دور میسی لوک وڈ (ایزابیلا سرمن) کی پرورش میں مصروف ہوتے ہیں۔
کلوننگ کے ذریعے پیدا ہونے والی میسی کو تنہائی میں پالنا اس لیے بھی ضروری تھا تاکہ اسے ان افراد سے بچایا جاسکے جنہیں اس کی تلاش ہے۔
‘جراسک ورلڈ ڈومینین’ میں اس بار بھی کرس پریٹ اور برائس ڈیلس ہاورڈ نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں جب کہ ‘جراسک پارک’ سیریز کے مرکزی کردار سیم نیل، لورا ڈیرن اور جیف گولڈبلم نے اس فلم کے ذریعے فرانچائز میں واپسی کی ہے۔

ایسے میں جب میسی اور اوون کو سمجھنے والے ڈائنوسار کیبچے کو ‘پوچرز ‘ اٹھا کر لے جاتے ہیں تو وہ اور کلیئر ان کے پیچھے اٹلی پہنچ جاتے ہیں۔ جہاں ایک نامی گرامی کمپنی میسی کے ڈی این اے کا جائزہ لے کر اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
کہانی میں ڈائنوسار کے ساتھ ساتھ لوکسٹ (ٹڈی) کی ایک ایسی قسم بھی موجود ہے جو دنیا بھر کی فصلوں کو نقصان پہنچانے میں مصروف ہوتی ہے۔ سوائے اس کمپنی کی فصلوں کو جس نے ٹڈی کو اسی مقصد کے لیے تیار کیا تھا۔
ٹڈی حملوں کی تحقیقات کرنے کے لیے ‘جراسک پارک’ کے مرکزی کردار ڈاکٹر ایلن گرینٹ (سیم نیل)، ڈاکٹر ایلی سیٹلر (لورا ڈرن) اور ڈاکٹر این میلکم (جیف گولڈ بلم) ایک بار پھر یکجا ہوتے ہیں۔
دونوں ٹیموں کے مشن میں سب سے بڑی رکاوٹ ڈائنوسارز کی شہروں اور دیہاتوں سمیت ہر جگہ موجودگی کے ساتھ ساتھ بائیوسن نامی کمپنی کی فول پروف سیکیورٹی بھی ہے۔ جس کی موجودگی میں کسی بھی قسم کا قدم اٹھانا خطرے سے خالی نہیں۔
جب 1993 میں ‘جراسک پارک’ ریلیز ہوئی تھی اس وقت اس کو بنانے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ آگے جاکر یہ فرنچائز کتنی مقبول ہوجائے گی۔
سیم نیل، لورا ڈرن اور جیف گولڈ بلم پہلی فلم کے بعد ایک ایک مرتبہ ‘جراسک پارک’ فلموں کا حصہ بنے۔ جس میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ڈائنو سارز سے بچایا۔
چودہ سال کے عرصے کے بعد جب ‘جراسک ورلڈ’ کا آغاز ہوا تو پرانی ٹریلوجی کے چاہنے والوں نے پسندیدہ کرداروں کی کمی کو محسوس کیا۔
اسی لیے موجودہ فلم میں ہدایت کار کولن ٹریوورو کی دعوت پر ان تینوں اداکاروں نے فرنچائز میں کم بیک کیا اور کرس پریٹ اور برائس ڈیلس ہاورڈ جتنی دیر تک اسکرین پررہے۔ان کی موجودگی نے نہ صرف بڑی عمر کے ان شائقین کو محظوظ کیا جنہوں نے ‘جراسک پارک’ سنیما میں دیکھی تھی بلکہ وہ نوجوانوں بھی محظوظ ہوئے جنہوں نے ان کے بارے میں سنا ضرور تھا لیکن دیکھا نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں