83

بائیڈن کا کانگریس پر اسلحے سے متعلق نئی پابندیوں کی منظوری کے لیے زور

قوم ے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کانگریس پر زور دیا کہ سیمی آٹومیٹک، ریپڈ فائر اسالٹ ہتھیاروں اور اعلی صلاحیت والے میگزین پر 1994 میں عائد کردہ پابندی کو بحال کیا جائے۔ مذکورہ ہتھیاروں پر پابندی2004 میں ختم ہو گئی تھی۔
بائیڈن نے کہا کہ ” اگر ہم اسلحے پر پابندی نہیں لگا سکتے، تو ہمیں ان کی خریداری کے لیے عمر کی حد 18 سے بڑھا کر 21 کر دینی چاہیے، اس کے علاوہ اسلحہ خریدنے والوں کے ماضی کی بھی سخت جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔”
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کانگریس سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں پے درپے چونکا دینے والے فائرنگ کے واقعات کوسامنے رکھتے ہوئے اسلحے سے تشدد کوروکنے کے لیے عام فہم اقدامات کی منظوری دے۔
اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ ٹیکساس کے پرائمری اسکول میں حملہ آور ملزم نے 18 سال کی عمر کو پہنچتے ہی دو بندوقیں خریدی تھیں جس کا استعمال کرتے ہوئے اس نے 19 طالب علموں اور دو اساتذہ کو قتل کیا۔
صدر بائیڈن نے اس استثنی کو بھی منسوخ کرنے پر زور دیا جو اسلحہ بنانے والوں کو ذمہ داری سے بچاتا ہے۔ ان کے بقول ، “اسلحہ سازی ملک کی واحد صنعت ہے جسے اس قسم کا استثنی حاصل ہے۔ ذرا تصور کریں، صدر بائیڈن کے خیال میں ہتھیاروں سے متعلق نئی پابندیاں گن وائلنس کی روک تھام میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
صدر نے زور دیا کہ اس مسئلے کی سخت نگرانی کرنے کی ضرورت ہے اگر آپ ایسا نہیں کرتے اور کچھ برا ہوتا ہے، تو آپ کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
اپنے خطاب میں بائیڈن نے ایک خط کا حوالہ دیا جو انہیں ریاست ٹیکساس کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والی لڑکی کی دادی کی طرف سے موصول ہوا تھا۔
خط میں لکھا ہے، “اس پوشیدہ لکیر کو مٹا دیں جو ہماری قوم کو تقسیم کر رہی ہے۔ اس کا حل نکالا جائے اور جو خرابی ہے اسے دور کیا جائے اور ایسی تبدیلیاں کی جائیں جو اس (طرح کے واقعات) کو دوبارہ ہونے کو روک سکیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں