91

ہاکی کی دنیا میں سب سے زیادہ گول کرنے والا پاکستانی ہیرو

سہیل عباس 9 جون 1975 کو کراچی کے ہولی فیملی ہسپتال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم حبیب پبلک سکول سے حاصل کی جس کی شہرت اس حوالے سے ہے کہ وہاںہاکی کو بطور مضمون پڑھایا جاتا ہے۔
اس سکول سے کرکٹ اور ہاکی کے سپرسٹار پڑھ کر نکلے۔ اپنے ماموں صفدر عباس سے متاثر ہو کر ہاکی کے میدان میں آئے جنہوں نے 16 سال کی عمر میں 1974 کے ہاکی ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی۔
کھلاڑی پہلے جونیئر ٹیم کا حصہ بنتے تھے بعد میں قومی ٹیم میں شامل ہوتے تھے لیکن سہیل عباس براہ راست سینئر ٹیم کا حصہ بنے۔ 1995 میں کوئٹہ میں منعقد ہونے والی اٹھارہویں جونیئر نیشنل ہاکی انڈر 18 چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کے بعد جونیئر سکواڈ میں جگہ تو بنا لی مگر انہیں نیدرلینڈز، جرمنی اور پولینڈ کے بین الاقوامی دوروں میں کھیلنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
والد افتخار حسین کرکٹر لیکن خود ہاکی کے میدان کے بے تاج بادشاہ۔ قومی ہاکی ٹیم میں 1998 میں شامل ہوئے اور نیدرلینڈ میں ہاکی ورلڈکپ کھیلا۔ 348 گول کرنے والے اس گمنام ہیرو کی 21 گول ہیٹ ٹرکس بھی ہیں۔ ان کی موجودگی میں قومی ٹیم اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کی فاتح اور ایشین چیمپئن بنی۔سہیل عباس کا پہلا گولڈ میڈل ایشین گیمز 2010 میں تھا۔ڈریگ فلک کے کنگ کہلانے والے سہیل عباس کا بچپنا بھی عام بچوں جیسا تھا، وہ اپنے شوق کی تکمیل کیلئے لکڑی کی ہاکی کو آگ پر گرم کرکے سکوپ بناتے اور شارٹ کارنر کی پریکٹس کیا کرتے تھے۔
پھر یہ ہی سٹک سہیل عباس کے نام سے مشہور ہوئی اور فیکٹریوں میں بننے لگی۔ ۔
پال لیجنز کا سب سے زیادہ گول (267) کرنے کا عالمی ورلڈ ریکارڈ توڑا۔
ٹیم میں وہ بطور فل بیک اور مڈ فیلڈر کے کھیلتے رہے۔ ان کے پسندیدہ فل بیک قاضی محب رہے ہیں۔ اپنے ہاکی کیرئیر کے دوران وہ گروئن انجری کا بھی شکار ہو کر کچھ عرصے کیلئے میدان سے باہر رہے۔ ڈومیسٹک ہاکی میں وہ واپڈا کی طرف سے کھیلے اور اپنی ٹیم کو نیشنل چیمپئن بنوایا۔
ہاکی ٹیم سے تین سال کا وقفہ لیا اور لیگ کھیلنے ہالینڈ چلے گئے۔
ان کے مطابق پاکستان ہاکی میں وقت کے ساتھ ساتھ جدید اصلاحات نہیں کی گئیں۔ وہ ہاکی کے زوال کی وجوہات بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک تو پہلے پاکستان میں ہاکی کا سسٹم ایماندار تھا جو اب نہیں ہے اور پھر ہم وقت کے ساتھ ساتھ ہاکی کی جدید ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہوئے۔ سہیل عباس اپنی بات کہنے میں بہت بے باک اور راست گو واقع ہوئے ہیں۔ وہ اپنے انٹرویوز میں لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرتے ہیں۔
سہیل عباس نے 8 اکتوبر 2004 کو انٹرنیشنل ہاکی میں سب سے زیادہ 268 گول کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ یہ ریکارڈ 25 سال بعد سہیل عباس نے توڑا تھا۔ وہ اپنے یادگار گول کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا یادگار گول انڈیا کیخلاف تھا جب انہوں نے پال لیجنز کا عالمی ریکارڈ توڑا تھا۔
عالمی ریکارڈ توڑنے کے بعد انہوں نے انٹرنیشنل ہاکی سے دوری اختیار کرلی لیکن 2009 میں اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے لیا اور اذلان شاہ ٹورنامنٹ سمیت لندن اولمپکس 2012 میں بطور کپتان پاکستان ہاکی ٹیم کی قیادت کی بلکہ اولمپکس میں پاکستانی دستے کا فلیگ اٹھانے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔
ان کی قیادت میں ٹیم نے اولمپکس میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ ٹیم کی اس ناقص کارکردگی کی وجہ سے سہیل عباس کو ٹیم سے ڈراپ کر دیا گیا۔ اس لئے وہ 2012 میں انٹرنیشنل ہاکی سے ریٹائر ہو گئے۔
قومی ٹیم میں شمولیت کے بعد ان کا چرچہ ڈریگ فلک کے گول سے ہوا۔ یہ میچ انڈیا کیخلاف پاکستان میں کھیلا گیا تھا۔ اتنی تیز ڈریگ فلک کے وہ ماہر تھے کہ کمنٹیٹر کی آواز گونجتی تھی سہیل عباس کی سکوپ اور گول۔
ان کا سکوپ اتنا تیز ہوتا تھا کہ بعض اوقات ریفری اور گول کیپر کو بھی نظر نہیں آتا تھا۔ ان کی ایک سکوپ تو اتنی تیز تھی کہ گول پوسٹ کے نیٹ سے باہر نکل گئی۔
1999 میں 60 گول سکور کر کے کیلنڈر ائیر میں سب سے زیادہ گول کرنے کا پال لیجنز کے 58 گول کا بین الاقوامی اور حسن سردار کے 50 گول کا قومی ریکارڈ توڑا۔
انہوں نے اڑھائی سال کی قلیل مدت میں اپنے تیز ترین 100 گول مکمل کئے۔ یہ بھی ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ قدرتی طور پر شارٹ کارنر ایکسپرٹ گردانے جانے والے سہیل عباس کو 2002 میں 10ویں ہاکی ورلڈ کپ کوالالمپور میں سب سے زیادہ گول سکور کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے جہاں انہوں نے سب 10 گول پینلٹی کارنر پر سکور کئے۔ جب وہ پال لیجنز سے ہالینڈ میں ملے تو پال لیجنز نے دیکھتے ہی کہا اولڈ مین از کرائنگ (old man is crying)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں