53

بلاول کا دورہ امریکہ :امریکیوں کی نظر میں ۔۔۔۔

اقوام متحدہ کی ایک اہم کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ شرکت کی ۔
اس موقع پر انہوں نے کہا کہپاکستان امریکہ کے ساتھ وسیع البنیاد تعلقات چاہتا ہے،جو تجارت ہو نہ کہ امدادہو۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے یوکرین پر روسی حملے سے فورا پہلے کیے جانے والے روس کے دورے کا دفاع یہ کہتے ہوئے کیا کہ وہ عمران خان کی سیاست اور ان کی بہت سی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود ان کے دورے کا اس لحاظ سے دفاع کریںگے کہ انہیں علم نہیں تھا کہ یو کرین کے خلاف روسی کارروائی اسی دن شروع ہو جائے گی جب وہ ماسکو میں ہوں گے۔
اس دورے کے موقعے پر انہوں نے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن سے ملاقات کی ،
امریکہ میں تجزیہ کار ان کے اس دورے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کررہے ہیں۔
رابن ریفل نے پنے ایک بیان میں کہا کہ یہ بالکل درست بات ہے۔ بہت سے لوگوں کو اس بات کا یقین نہ تھا کہ روس یوکرین پر حملہ کردے گا اور ان لوگوں میں خود یوکرین کے صدر بھی شامل تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کسی نئی خارجہ پالیسی کے بارے میں کوئی واضح بات نہیں کی لیکن یہ ضرور کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ اس سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کوئی ایسی بات نہ کریں جو یوکرین کے حوالے سے امریکی پالیسی کے برخلاف ہو۔ لیکن، انہوں نے یہ واضح کیا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے حل کے حق میں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں