100

امریکہ میں صدارتی مباحثوں کی تاریخ

امریکہ کی سیاست میں 162سالہ پرانی تاریخ ہے جو اب بھی جاری ہے ۔امریکہ میں مباحثوں کا آغاز1858میں اسٹیفن ڈگلس اور ابراہام لنکن کے درمیان ہو اتھا ۔
صدارتی امیدواروں جان ایف کینیڈی اوررچرڈ نکسن کے درمیان1960میں صدارتی مباحثہ ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا۔
اور اس طرح صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثوں کا باقاعدہ آغاز ہوا ان دونوں نے سیاسی معاملات پر اپنی پالیسی اور منشور پر ایک دوسرے کے ساتھ بحث کی جس کے بعد ہر الیکشن سے قبل یہ مباحثے روایت بن گئے۔
اس سے قبل1940میں ہونے والے ری پبلکن صدارتی امیدوار وینڈل ولکی نے ڈیمو کریٹک صدر فرینکلن روزویلٹ کو مباحثے کے لیے چیلنج کیا تھا لیکن صدر روز ویلٹ نے اس میں شرکت سے انکار کر دیا۔
تاہم 1948 میں ری پبلکن صدارتی پرائمری مہم کے دوران دو امیدواروں تھامس ای ڈیووی اور ہیرلڈ اسٹاسن کے درمیان ریاست اوریگون میں ایک مباحثہ ہوا جسے ریڈیو پر نشر کیا گیا۔اس طرح 1956میں ڈیمو کریٹک پرائمری کے مقابلوں میں صدارتی امیدوارایسٹاس کیفاوراور اڈلائی اسٹیونسن کے درمیان مباحثے کو ٹیلی ویژننشر کیا گیا۔
عام انتخابات سے قبل صدارتی مباحثوں کا باقاعدہ آغاز نکسن اور کینیڈی کے درمیان28ستمبر1960کو ہونے والے مباحثے سے ہی ہوا۔ یہ مباحثہ ‘سی بی ایس’ ٹی وی چینل کے اسٹوڈیو میں ہوا۔ سی بی ایس کے علاوہ ‘اے بی سی’ اور ‘این بی سی’ چینلز نے بھی مباحثوں کی میزبانی کی۔ ہر مباحثے میں مختلف صحافیوں کے پینلز نے امیدواروں سے سوالات کیے۔
لیکن1960کے مباحثے کے بعد 16سا ل تک مباحثہ نہ ہو سکا دوبارہ1976میں ری پبلکن صدر جیرالڈ فورڈ اور ان کے مخالف ڈیمو کریٹک امیدوار جمی کارٹر کے درمیان مباحثوں سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا۔
سابق امریکی صدر جارج بش سینئر اور بل کلنٹن کے درمیان1992میں صدارتی مباحثہ ہوا۔
صدارتی مباحثوں کی انتخابات میں اہمیت
اگر دیکھا جائے تو ان مباحثوں کی کوئی آئینی ضرورت نہیں ہے ۔
نیوز چینل پر پرائم ٹائم کے دوران براہِ راست دکھائے جانے والے ان مباحثوں کے ذریعے صدارتی امیدوار کروڑوں لوگوں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔ اور اپنے موقف کے حق میں دلائل پیش کر کے خاص طور پر ان ووٹرز کو قائل کر سکتے ہیں جو اس وقت تک کسی بھی طرف مائل نہیں ہوتے۔
1960میں ہونے والے مباحثے کوچھ کروڑ سے زائد لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا۔
2020الیکشن میں کرونا وبا کے سبب ان کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے،بائیڈن اورٹرمپ دونوں سیاست دان وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور انہیں اپنی بات ووٹرز تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم بھی دستیاب ہیں۔
کرونا وبا کے سبب موجودہ انتخابی مہم میں عوام کے امیدواروں سے براہِ راست روابط بہت ہی کم رہے۔ ایسے میں ٹی وی اسکرین پر دونوں امیدواروں کی موجودگی کو ایک اہم موقع تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے بقول پرائمری مقابلوں کے دوران بھی ان مباحثوں کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ عوام بڑی دلچسبی سے پارٹی کے امیدواروں کے نظریات اور خیالات جان کر اپنے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے بقول مباحثوں کی اہمیت کی ایک حالیہ مثال ڈیموکریٹک پارٹی کی نائب صدر کی امیدوار کاملا ہیرس کا پرائمری مقابلوں میں ملکی سطح پر ایک اہم سیاست دان کے طور پر ابھرنا ہے۔

0 Reviews

Write a Review

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں