87

کیا واقعی صدر ٹرمپ پی آئی اے کا روز ویلٹ ہوٹل خریدنا چاہتے ہیں؟

واشنگٹن ڈی سی ( یوایس اردو نیوز )نیو یارک میں پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل کی فروخت کی خبر سنے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس ہوٹل کی خریداری میں دلچپسیلینے لگے ہیں
لیکن تاحال اس معاملے پر صدر ٹرمپ یا جائیداد کی خرید و فروخت سے متعلق ان کی کمپنی کی جانب سے تصدیق نہیں کی گئی۔
پاکستانی میڈیا پر چند دنوں سے تبصرے جاری ہیں ،پاکستان حکومت اب اس اہم قومی اثاثے کو بھی فروخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے تاحال اس فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
نیو یارک میں پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی ملکیت روز ویلٹ ہوٹل ان دنوں پاکستان کے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔
یہ ہوٹل نیو یارک شہر کے مشرق میں میڈیسن ایونیو اور 45 اسٹریٹ پر اقوامِ متحدہ کی عمارت قریب واقع ہے ،ٹائم اسکوائر بھی اس ہوٹل کے قریب ہی واقع ہے۔
ہوٹل کا افتتاح 1924 میں ہوا تھا۔
ان کمروں کے علاوہ ایک صدارتی اپارٹمنٹ بھی ہے جو چار کمروں، ایک باورچی خانے، ایک علیحدہ بیٹھک اور ڈائننگ روم پر مشتمل ہے۔
تاریخی اعتبار سے یہ ہوٹل 1943 سے 1955 تک نیو یارک کے گورنر تھامس ڈیوی کی قیام گاہ اوران کا سرکاری دفتر بھی رہا۔
روز ویلٹ ہوٹل کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ 1947میں یہ نیو یارک شہر کا پہلا ایسا ہوٹل تھا جس کے تمام کمروں میں ٹیلی ویژن کی سہولت موجود تھی۔
1979 میں جب پی آئی اے نے روز ویلٹ ہوٹل خریدا تو اس وقت سعودی عرب کے شہزادہ فیصل بن خالد بن عبدالعزیز نے بھی اس میں سرمایہ کی۔
پی آئی اے نے 2005 میں سعودی شہزادہ سے چار کروڑ ڈالر اور سعودی شہر ریاض میں اپنی ملکیت ہالی ڈے ان کے عوض پورا ہوٹل مکمل طور پرخرید لیا۔ اب یہ 99 فی صد پاکستانی ملکیت ہے جب کہ بقیہ ایک فی صد کا مالک شہزادہ ہے۔
لکڑی کے فرنیچر سے سجے ایک ہزار 25 کشادہ کمروں پر مشتمل یہ ہوٹل شروع سے ہی کئی سیاسی اور کاروباری شخصیات کی قیام گاہ اور توجہ کا مرکز رہا ہے۔ خصوصا اس کے 52 کشادہ فلیٹ نما کمرے بھی اس کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔
2008 میں ہوٹل کی تزئین و آرائش پر ساڑھے چھ کروڑ ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی۔ 2011 میں پھر اس ہوٹل میں جدید سہولیات مہیا کرنے کا کام شروع ہوا۔
پی آئی اے کے انتظامی کنٹرول کے بعد پاکستان سے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے تقریبا تمام صدارتی اور وزیراعظم کے وفود اسی ہوٹل میں قیام کرتے رہے۔
پاکستانی صحافیوں کے لیے اس ہوٹل میں میڈیا سینٹر بھی قائم کیا جاتا رہا ہے۔
بڑے پیمانے پر تزئین و آرائش کے کام اور دیگر اخراجات کے باعث گزشتہ سال پی آئی اے کو لگ بھگ 15 لاکھ امریکی ڈالر نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔
عمران کہتے ہیں کہ اقتصادی جمود کے حالات میں پاکستان کو موجودہ انتظامیہ کے ساتھ ازسر نو معاہدہ کرنا چاہیے تاکہ آئندہ کچھ سالوں میں بغیر کسی بڑی سرمایہ کاری کے اسے سیاحوں کے لیے مزید پرکشش بنایا جا سکے۔

0 Reviews

Write a Review

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں