43

مذہبی تعلیم کے لیے امریکی ریاستیں فنڈنگ کر سکتی ہیں: سپریم کورٹ

واشنگٹن ڈی سی :عدالت نے وضاحت کی کہ مذہبی لوگ ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور کسی پبلک پروگرام سے ان کے مذہب کو خارج رکھنے کا عمل ہمارے آئین کی روح کے منافی ہے، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اٹارنی جنرل ولیم بر نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے استفسار سے اتفاق کیا کہ مذہب کے خلاف ایسے کھلے امتیازی رویے کی ہمارے آئین میں کوئی گنجائش نہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ بھی اسے مذہبی آزادی کی جیت قرار دے رہی ہے۔ فیصلے کے حق میں پانچ ججوں نے جبکہ چار ججوں نے مخالفت میں ووٹ دیا۔
امریکہ کی سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مونتانا ریاست کا مذہبی اسکولوں کو ٹیکس کریڈٹ سے خارج کرنے کا اقدام خلاف آئین ہے۔
منگل کو سنایا جانے والا یہ فیصلہ مذہبی اسکولوں کے لیے پبلک فنڈنگ کے حامیوں کے لیے فتح کی نوید لایا جبکہ مخالفین اس فیصلے سے خوش نظر نہیں آئے۔ ان میں ٹیچرز یونین بھی شامل ہے، جس کا خیال تھا کہ اس سے پبلک اسکولوں کی فنڈنگ کا راستہ بند ہو سکتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مونتانا کا قانون مذہبی سکولوں اور ان خاندانوں کے درمیان فرق کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے جن کے بچے ان سکولوں میں پڑھتے ہیں یا وہ انہیں وہاں پڑھوانے کا ارادہ رکھتے ہیں؛ اور یہ کہ کسی قسم کا امتیازی رویہ برتنا آئین میں درج مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

0 Reviews

Write a Review

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں