34

کیا امریکہ جیسے ملک میں بھی پولیس کو انصاف کے کٹہرے میں لانا مشکل ؟

سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کی پولیس حراست میں موت کو کئی ماہ گزر جانے کے بعدبھی ملوث پولیس اہلکار کو سزا نہیں دی جا سکی ۔لوگوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا ان کوا نصاف مل پائے گا؟
امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی ایسی واقعات میں پولیس افسران شہریوں کی طرف سے مقدمات میں اہلکاروں کو قصور وار ٹھہرانے کیی مثال کم ہی ملتی ہے ۔
ریاست منی سوٹا جہاں فلائیڈ کی ہلاکت ہوئی وہاں کی 165 سالہ تاریخ میں صرف ایک پولیس افسر کو اس نوعیت کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا۔
لیکن جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
پولیس کا موقف تھا کہ دورانِ حراست فلائیڈ نے مزاحمت کی اور قریب کھڑی ایک گاڑی کی چھت پر چڑھ گئے۔
واقعہ میں ملوث پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کے فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا اس کو مارنے کی نیت سے نہیں رکھا تھا ۔ بعد ازاں احتجاج کے بعد ان پر سیکنڈ ڈگری چارج یعنی غیر ارادی قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔واقعے میں ملوث چاروں پولیس اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا تھا۔
منی ایپلس کے ایک وکیل پیٹر وولڈ کہتے ہیں کہ پراسیکیوٹر کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ڈیرک چاون نے فلائیڈ کو جسمانی طور پر شدید نقصان پہنچانے کی کوشش کی جس سے متاثرہ شخص کی موت ہوئی۔
اگر استغاثہ اس الزام کو ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ڈیرک نے دوسرے درجے کے قتل کا ارتکاب کیا۔
اس ضمن میں ایک راہ گیر کی جانب سے بنائی گئی لگ بھگ نو منٹ کی ویڈیو ایک بڑے ثبوت کے طور پر اس کیس میں استعمال ہو سکتی ہے۔
نیو یارک یونیورسٹی سے وابستہ وکیل ٹیرین مرکل کہتی ہیں کہ یہ ویڈیو ایسے واقعات میں عموما سامنے آںے والی ویڈیوز سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔
ان کے بقول یہ ویڈیو اس طرح مختلف ہے کہ جب چاون جائے وقوع پر پہنچے تو جارج فلائیڈ کو پہلے ہی ہتھکڑی لگائی جا چکی تھی اور انہوں نے سرنڈر کر دیا تھا۔
ان کے بقول اس ویڈیو کے تین منٹ کا حصہ وہ ہے جب فلائیڈ بے ہوش ہو چکے تھے اور اس کے باوجود ان کی گردن پر پولیس اہلکار کا گھٹنا تھا۔
منی سوٹا کے قانون کے مطابق دوسرے درجے کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر 40 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

0 Reviews

Write a Review

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں