45

بلیک لائف میٹرز

اچھی بات ہے کے ہم سب اس بات کی فکر کریں اور ” بلیک لائف میٹرز”کے سلوگن کے ساتھ کھڑے ھو کر آواز اٹھائیںپر ہم میں سے کتنے ہیں جنھوں نے کسی شیعہ،سنی ،کرسچن کو موت کے گھاٹ اتار گیا ہو تو ہم نے اپنی تصویریں بدل دی ہوہم نے اس جرم کے خلاف آواز اٹھائی ہواور بولا ہوان کی زندگی بھی معنی رکھتی ہے۔
اور تو اور ہم تو وہ ہیں جو فرقوں میں بھی ایک دوسرے سے اس حد تک اختلاف کرتے ہیں کے نفرت کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ہمارے نبی پاک نے اپنے خطبہ الوداع میں بہت پہلے کالے اور گورے کا عجمی اور عربی کا فرق ختم کرنے کا حکم دیا۔”کیا بلکل ایسا ہی ہے پر ذرا غور کیجئے” کے ہم تو کالے اور گورے تو دور کی بات ہے ۔ہم تو چاروں صوبوں کی سطح پر ہی اتنا تعصب رکھتے ہیں کے پنجابی، سندھی، بلوچی اور پختون میں بہت ہی کم لوگ ہیں جو اس تعصب سے بالاتر ہوکر کیسی کے لیے سوچتے ہیں –
ورنہ ہم تو شہروں کے نام پوچھتے ہیں پھر انداز کرتے ہیں کے یہ کس قدر عزت دینے کے قابل ہے۔کوئی بڑے شہر سے ہے تو وہ کسی چھوٹے شہر یا گائوں والے کو اس نظر سے دیکھتا ہے جیسے وہ کوئی انوکھی چیز ہے اور ان پڑھ گنوار ہے۔ اور تو اور ہم میں تو اتنا تعصب ہے کہ شہر میں بھی کوئی اونچی سوسائٹی میں رہنے والا اس ہی شہر کے گنجان آباد علاقے کے لوگوں کو بہت ہی کوئی کم ترسمجھتا ہے۔جیسے ڈیفنس میں رہنے والا بھاٹی گیٹ، مغل پورہ کے رہنے والوں کو کم ہی پسند کرتا ہے ۔تنگ گلیوں میں اپنی قمیتی کار لے جانا اس کی شان کے خلاف ھوتا ہے اور سوچو جو دلہن لانا پڑھ جائے تو قیامت نہ آجائے۔ہم تو راجہ بازار، موتی بازار میں جانا اس لیے پسند نہیں کرتے کے لیبل لگ جائے گا کہ غریب غربا ہیں ۔جو اس طرح کے گنجان بازاروں کو رخ کرتے ہیں۔
ہم تعصب کے ورق میں اس طرح لپٹے ہیں کے لال شربت ہم کو غریبوں کا مشروب لگتا ہے اور کوک امیروں کا۔ روٹی سالن، سبزی، دال، گوشت تک میں ہماری تعصب کی کہانی ہے وہ ایسے کے بڑا گوشت تو ہم کھاتے ہی نہیں اب وجہ صحت بتائی جاتی ہے پہلے وجہ غریبوں کا کھانا تھی۔ برگر ہو یا پیزا تو فخر سے بتایا جاتا ہے کہ بچے مکڈونڈا کھاتے ہیں پیزا کھاتے ہیں پر سبزی اور دال تو غریبوں کا کھانا ہے۔کس کس تعصب پر بات کروں ہم تو بنگلہ، کار، کپڑے اور رہن سہن دیکھ کر دوستی تک کا رشتہ بھی سوچ کر کرتے ہیں کے ہم پہچانے جائیں کے ایک مخصوص کلاس سے وابستہ ہیں۔ہم سب سے بڑھ کر ہمارے تعصب کی سوچ یہ ہے کے ہم نیکی بھی ان ہی کے ساتھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں ہمارا فائدہ ہواور اس ہی لیے ہم صرف ان ہی دکھوں پر آواز اٹھاتے ہیں۔ جن سے ہمارا فائدہ ہواور ہم انسانوں کی نظر میں معتبر ہو-
اوران ہی محفلوں میں جانا پسند کرتے ہیں جس میں ہمارے ہم پلہ اور ہم سے اونچے لوگ ہو اور مسجد تک میں ہمارا انتخاب مہنگی والے قالین اور اے سی والی کا ھوتا ہے جس کو ہم سہولت کا نام دے کر اپنی دل کو تسلی دیتے ہیں کے اللہ نے پیسہ دیا ہے تو پھر کیوں نہیں۔
بے شک سہولت کی حد تک شاید کام بن بھی جائے پر ذرا تعصب کی عنیک کو اتار کر دیکھیں تو فرق اپنی ذات میں نظر آ جائیگا،ہم وہ لوگ ہیں جن کے اپنے ملک کی زہرہ جو ایک آٹھ سال کی بچی تھی غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر نوکری کرنے پر اس کو مالکن نے صرف اس لیے موت کی نیند سلا دیا اس پر الزام تھا کہ ایک پالتو طوطا اس بچاری نے غلطی سے اڑا دیا اس سے پہلے بھی بہت سے ایسے واقعات ہوچکے ہیں میں ہر بار لکھ چکی ہوپر تعصب کی انتہا ہماری یہ ہے کے ہم اس طرح کے واقعات پر اس لیے اتنا نہیں بولتے کے اس میں ہمارا فائدہ یا ہے ہی نہیں یا کم ہے۔ دعا ہے میری کے ہم کبھی صحیح معنوں میں تعصب سے پاک ہو اور ہماری نہ صرف آنکھیں کھلیں بلکہ سوچ بھی کھل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں