178

کرونا وائرس:امریکہ کی بیمار معیشت کب بحالی کی جانب پلٹے گی؟

معمول کی اقتصادی سرگرمی کی بحالی آج تک کوسوں دور نظر آرہی ہے اور بے یقینی کی فضا میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ اور آبادی کا وہ حصہ جو روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھروں کا خرچہ چلا رہا تھا، نہایت ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔ لاک ڈاون میں نرمی اور معیشت کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ صدر نے ریاستوں پر چھوڑ دیا ہے۔
تاہم، سماجی فاصلے کے لئے جو رہنما اصول جاری کئے گئے تھے، جمعرات کو ان کی معیاد ختم ہوگئی اور صدر ٹرمپ نے ان کی توسیع کا اعلان نہیں کیا، بلکہ اس خوش امیدی کا اظہار کیا کہ ریاستیں ازخود پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ لیکن، صحت عامہ کے بعض ماہرین کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ کھولنے کے ممکنہ نتائج کے پیش نظر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ ملک کی بیمار معیشت جلد ہی بحالی کی جانب پلٹے گی اور اقتصادی اعداد و شمار ان کے خیال میں نہایت شاندار ہوجائیں گے۔
صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ ان کی انتظامیہ ویکسین کی تیاری میں تیزی پیدا کرنے کے لئے نجی شعبے کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ صحت سے متعلق اعلی امریکی عہدیدار ڈاکٹرانتھونی فاچی نے اس خوش امیدی کا اظہار کیا ہے کہ ریمڈیسیویر نامی دوا سے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ تاہم، بعض ماہرین اس بارے میں شک و شبہ رکھتے ہیں۔
حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے وسط سے اب تک تقریبا تین کروڑ امریکی بیروزگاری الاونس کی درخواستیں دے چکے ہیں۔ ساتھ ہی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیئرون پاویل صدر ٹرمپ کے برعکس زیادہ مایوس کن نقطہ نظر رکھتے ہیں۔
ایسے میں جب کرونا وائرس کا آسیب دنیا بھر میں لوگوں کا پیچھا کر رہا ہے، امریکہ میں بھی اس حوالے سے لاک ڈان کا مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ دوسری جانب اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر اقتصادی بحران اور بیروزگاری بھی جاری ہے
ان کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں کرونا وائرس کے بحران کا اقتصادی سرگرمیوں، روزگار اور افراط زر کی صورتحال پر زبردست منفی اثر دیکھنے میں آئے گا، جبکہ اس سے آگے وسط مدتی دور میں معاشی نقشہ اور بھی زیادہ خطرات میں گھرا دکھائی دے گا۔

0 Reviews

Write a Review

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں